بخشا ہے اس نگاہ نے ایسا یقیں مجھے

بخشا ہے اس نگاہ نے ایسا یقیں مجھے
حیرت سے دیکھتے ہیں سبھی نکتہ چیں مجھے

جو کچھ ملا حضور کے صدقے سے ہے ملا
اور جو نہیں ہے اس کی ضرورت نہیں مجھے

میرے لبوں کی پیاس ہے ان جالیوں کا لمس
مل جائے تو قبول دم ِ آخریں مجھے

یہ سوچ کر ہے کپکپی طاری وجود پر
دیکھے گا کس نگاہ سے ماہِ مبیں مجھے

سستا رہا ہوں گنبدِ خضرا کے سائے میں
کہہ دو نہیں ہے حاجتِ خلدِ بریں مجھے

آزر نہ کہہ سکوں گا قصیدہ حضور کا
کہنے کا لاکھ شوق ہے اپنے تئیں مجھے

دلاور علی آزر

Related posts

لباس کی شرعی حیثیت

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں