شاید سمجھ رہے ہیں ہمارا خدا نہیں

شاید سمجھ رہے ہیں ہمارا خدا نہیں
وہ ظلم ہے کہ جس کی کوئی انتہا نہیں۔

ملت کسے پکارے صدا کس کی اب سنے
سب رہنما ہیں اور کوئی رہنما نہیں

اب کشتیاں جلا کے کفن سر سے باندھ لو
اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں

دریا کی سازشوں میں تھا ملّاح بھی شریک
ورنہ مرا سفینہ کبھی ڈوبتا نہیں

دہشت نے سب کی قوتِ گویائی چھین لی
سب ظلم سہہ رہے ہیں کوئی بولتا نہیں

ڈاکٹر طارق قمر

Related posts

میں مقتول قاتل ہوں

نوحہ ایک دھرتی کا

اسیرِ بے زباں