شرابِ عشق سے لبریز کر پیالہِ غم

شرابِ عشق سے لبریز کر پیالہِ غم
کہ دختِ رز سے ہے ممکن کہاں ازالہِ غم

مرے قریں ہیں معانی کچھ اور ہی غم کے
کہا ہے جوشِ جنوں اور دیا حوالہِ غم

دلِ شکستہ میں ہے اب تلک خلش اس کی
شبِ فراق جو اس نے کِیا مقالہِ غم

تُو عیش و عشرت و آسودگی کا ہے خواہاں
میں ہم پیالہِ درویش و ہم نوالہِ غم

میں شاہ زادہِ رنج و الم ورثے سے
عطا ہوا ہے مجھی کو فقط قبالہِ غم

تُو آبِ عشق سے زرخیز کر زمیں دل کی
کہ ریگ زار میں کِھلتا نہیں یہ لالہِ غم

چراغِ رُشد ہوں جامؔی رہِ فقیری میں
یہ خاکسارِ دو عالم پہ ہے محالہِ غم

شاہ محمود جامؔی
سیالکوٹ پاکستان

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا