شام کے سائے جلتے رہیں گے

شام کے سائے جلتے رہیں گے

یوں ہی سورج پگھلتے رہیں گے

دل میں بس اک اُداسی رہے گی

یوں تو موسم بدلتے رہیں گے

کر کے روشن ترے راستوں کو

ہم اندھیروں میں چلتے رہیں گے

عشق کی آگ ایسی لگی ہے

موم بن کر پگھلتے رہیں گے

وقت جب بھی تراشے گا پتھر

نقش تیرے نکلتے رہیں گے

درد سینے میں ہے شاذ جب تک

زخم لفظوں میں ڈھلتے رہیں گے

شجاع شاذ

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا