قومیں اپنے مفکرین، اہلِ قلم اور سنجیدہ آوازوں سے پہچانی جاتی ہیں۔ سینیٹر عرفان صدیقی بھی ان شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے اپنی فکری گہرائی، شائستگی اور متانت کے ذریعے ایک پوری نسل پر اثر ڈالا۔ وہ محض ایک صحافی یا کالم نگار نہیں تھے بلکہ ایک عہد کی علامت تھے جس میں علم، شرافت اور دلیل کو وقار حاصل تھا۔
عرفان صدیقی کی زندگی کا آغاز تدریس سے ہوا۔ انہوں نے تعلیم و تعلم کے میدان میں اپنا نام بنایا اور بعد ازاں صحافت کی دنیا میں قدم رکھا۔ ان کا سفر استاد سے کالم نگار، اور کالم نگار سے سیاستدان تک پُر وقار اور باعزت رہا۔ ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو سنجیدگی، شائستگی اور ایک متوازن رویہ تھا جو آج کے شور و غوغا میں کم ہی دکھائی دیتا ہے۔
بطور کالم نگار عرفان صدیقی کا نام "نقطہ نظر” کے ذریعے شہرت یافتہ ہوا۔ ان کے کالم نہ صرف عوام بلکہ اہلِ دانش کے درمیان بھی توجہ کا مرکز بنتے تھے۔ وہ مسائل پر بات کرتے وقت محض تنقید نہیں کرتے تھے بلکہ اسباب اور حل دونوں پر روشنی ڈالتے تھے۔ ان کی زبان میں نرمی، جملوں میں رچاؤ اور انداز میں گہرائی تھی۔ ان کے کالموں میں ایک ایسے دانشور کی جھلک نمایاں تھی جو قوم کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ نئے لکھنے والوں کے لیے ان کا اسلوب ایک مثالی نمونہ ہے جس میں علم و ادب کے ساتھ ساتھ کردار کی جھلک بھی ملتی ہے۔
بطور مشیر عرفان صدیقی نے وزیرِ اعظم نواز شریف کے ساتھ قومی امور کے میدان میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ اپنی شائستگی اور بردباری کے باعث پارلیمنٹ کے ہر طبقے میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ اختلافِ رائے کے باوجود ان کا لہجہ کبھی تلخ نہیں ہوا۔ ان کی گفتگو میں مکالمے کی روایت جھلکتی تھی۔ مسلم لیگ (ن) میں ان کا شمار ان افراد میں ہوتا تھا جو جذبات کے بجائے استدلال کے ذریعے اپنی بات منواتے تھے۔
ان کی شخصیت کا انسانی پہلو بھی بہت نمایاں تھا۔ وہ نرم گفتار، منکسر المزاج اور علم و ادب سے گہری وابستگی رکھنے والے شخص تھے۔ اساتذہ، طلبہ اور اہلِ قلم میں ان کا احترام خاص طور پر محسوس کیا جاتا تھا۔ وہ تعلقات میں خلوص اور رویے میں نرمی کے قائل تھے۔ یہی اوصاف انہیں دوسروں سے ممتاز بناتے تھے۔
عرفان صدیقی کی وفات سے ایک عہد ختم ہوا۔ یہ خلا صرف سیاست میں نہیں بلکہ قلم کی دنیا میں بھی شدت سے محسوس کیا جائے گا۔ وہ ان چند لوگوں میں سے تھے جو علم اور کردار دونوں کو یکجا کرتے تھے۔ ان کی تحریری میراث ہماری قومی فکری تاریخ کا قیمتی حصہ ہے۔ ان کے خیالات آج بھی اس بات کی یاد دلاتے ہیں کہ اختلاف کے باوجود تہذیب برقرار رکھی جا سکتی ہے۔
ان کی زندگی کی اصل میراث علم، فہم اور شرافت پر مبنی سیاست و صحافت ہے۔ انہوں نے قلم کو عزت دی اور سیاست کو شائستگی۔ آنے والی نسلوں کے لیے وہ ایک ایسے کردار کی مثال ہیں جس نے دلیل، صبر اور وقار کے ساتھ اپنی بات کہی۔
ان کی ذات میں استاد کا وقار، ادیب کی نرمی، اور سیاست دان کی فراست یکجا تھی۔ وہ ہر مجلس میں احترام سے سنے جاتے تھے کیونکہ ان کے الفاظ میں تجربے کی خوشبو اور نیت کی سچائی ہوتی تھی۔ وہ کبھی بلند آواز میں بولنے کے قائل نہ تھے، لیکن ان کے الفاظ میں ایسی گہرائی تھی جو دلوں کو چھو لیتی تھی۔ عرفان صدیقی کی تحریریں محض رائے نہیں بلکہ ایک تربیت تھیں۔ ان کے ہر کالم میں قاری کے لیے سوچنے، سمجھنے اور خود کو سنوارنے کا پیغام ہوتا تھا۔
ان کی جدائی نے یہ احساس تازہ کر دیا کہ معاشرے کو سنجیدہ، شائستہ اور مہذب آوازوں کی کتنی ضرورت ہے۔ آج جب اظہار کی دنیا شور سے بھری ہوئی ہے، عرفان صدیقی جیسے لوگ خاموشی کے اندر بھی معنی پیدا کرتے تھے۔ ان کے جانے سے جیسے ایک چراغ بجھ گیا ہو جو راستہ دکھاتا تھا۔ ان کے قاری، شاگرد اور چاہنے والے ہمیشہ ان کی تحریروں میں ان کی موجودگی محسوس کرتے رہیں گے۔
عرفان صدیقی کے بارے میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وہ ان شخصیات میں سے تھے جو کردار سے زیادہ بولتے نہیں، مگر عمل سے اپنی پہچان چھوڑ جاتے ہیں۔ ان کا نام آنے والے وقتوں میں علم، اخلاق اور وقار کی علامت کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ وہ چلے گئے لیکن ان کی تحریری خوشبو اور فکری ورثہ ہمیشہ باقی رہے گا۔
یوسف صدیقی