سینے میں داغ ہے تپش انتظار کا

سینے میں داغ ہے تپش انتظار کا
اب کیا کروں علاج دل داغدار کا

اس سے مجھے ملاؤ کہ مرتا ہوں ہجر میں
باعث ہے زندگی کا مری وصل یار کا

صیاد اب تو چھوڑ دے آتی ہے فصل گل
دیکھوں گا ہائے کیوں کہ تماشا بہار کا

شاید تمہارے دیں میں ہے اے دلبرو روا
دل چھین لینا عاشق سینہ فگار کا

شبنم نہیں ہے برگ کے اوپر چمن کے بیچ
آصفؔ گرا ہے اشک کسی بے قرار کا

آصف الدولہ

Related posts

انسانیت

تھا میں کیا، اور کیا سے کیا ہو گیا

مری زندگی تو فراق ہے