سرد ہوا سی کیوں ہے

سرد ہوا سی کیوں ہے آہٹ جذبوں کی
گھول دو اس میں تم گرماہٹ جذبوں کی

ہاتھ میں دو بس ہاتھ ذرا محسوس کرو
کومل کومل سی نرماہٹ جذبوں کی

ان آنکھوں نے پیار سے مجھ کو دیکھا ہے
دیکھو اب آ کر گھبراہٹ جذبوں کی

ہجر میں تیرے اکثر ایسا لگتا ہے
مار ہی ڈالےگی اکتاہٹ جذبوں کی

عنبر جیون کی ان سونی راہوں سے
کون چنے آ کر کڑواہٹ جذبوں کی

فرحانہ عنبر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی