دل میں رکھا ہے کتنے چاؤ سے

دل میں رکھا ہے کتنے چاؤ سے
انسیت ہو گئی ہے گھاؤ سے

بات اظہار تک نہیں پہنچی
کیا ملا ایسے رکھ رکھاؤ سے

ایک کچے گھڑے نے بتلایا
عشق ڈرتا نہیں بہاؤ سے

وہ خریدار ہوں محبت کی
جس کو مطلب نہیں ہے بھاؤ سے

میں نے خود ہی ڈبو دیا خود کو
کوئی شکوہ نہیں ہے ناؤ سے

تیرے میرے جو درمیاں ٹھہرا
لوگ جلتے ہیں اس لگاؤ سے

میری تصویر اس کو بھائی ہے
اس نے بتلا دیا ہے واؤ سے

میں گھلی جا رہی ہوں اب عنبر
اپنے اندر کے اس کٹاؤ سے

فرحانہ امبر

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا