سرِ شام

اک وہم سا اس دل میں مچلتا ہے سرِ شام
کیوں چاند مرا چھت پہ ٹہلتا ہے سرِ شام

شبنم کئی گُلوں کے بدن کا لہو تو ہے
جو گل کی رگِ دل سے اچھلتا ہے سرِ شام

اس زلف کے حلقوں سے ہی پھوٹے ہے شبِ قیر
پلو ترے سر سے جو پھسلتا ہے سرِ شام

ہمراہ رقیبوں کے تو پھرتا ہے وہ مخمور
قربت میں مری کیوں وہ سنبھلتا ہے سرِ شام

محنت سے کمانے کے لیے لقمہِ ناپاک
اک باپ کسی گھر سے نکلتا ہے سرِ شام

مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
(ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف)

ذیشان احمد خستہ

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا