سمجھ سکے جو مری بات وہ کلام کرے

سمجھ سکے جو مری بات وہ کلام کرے
نہیں سمجھتا تو بس دور سے سلام کرے

جسے بھی چاہیے خیرات میں مری آواز
وہ پہلے میری خموشی کا احترام کرے

کواڑ کھلتے ہی ورنہ بدن سے لپٹے گی
اسے کہو کہ اداسی کا انتظام کرے

معاملات جہاں اس کے واسطے چھوڑے
اور ایک وہ ہے جو فرصت سے اپنے کام کرے

مجھے سکوں ہی وہ آواز سن کے آتا ہے
تو کیوں نہ ربط مسلسل وہ میرے نام کرے

امن شہزادی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی