قریب آ کے بھی کوئی کہے نہیں ملنا

قریب آ کے بھی کوئی کہے نہیں ملنا
سبھی سے ہاتھ ملانا گلے نہیں ملنا

تمہارے چھوڑ کے جانے سے میں نے سیکھا ہے
جو ڈھیر شوق سے آئے اسے نہیں ملنا

تیرے بغیر گزرتے ہوئے دنوں کی قسم
یہ دن گزر بھی گئے تو تجھے نہیں ملنا

ذرا سی دیر میں انسان سیکھ جاتا ہے
کہ کس سے دوری بھلی ہے کسے نہیں ملنا

محل میں گونجی ہے آواز شاہ زادے کی
گلے لگاؤ مجھے پھر سمے نہیں ملنا

امن شہزادی 

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی