سکون تلاشتے تلاشتے شام ہو گئی

سکون تلاشتے تلاشتے شام ہو گئی
زندگی سنوارتے سنوارتے شام ہو گئی

پورا دن تو کچھ خرچ نہ کیا
محض کماتے کماتے شام ہو گئی

لوگوں نے الزام تراشی بند نہ کی
میں بے قصور تھا، بتاتے بتاتے شام ہو گئی

ایک آنسو بہانے کا موقع نہ ملا
لوگوں کو ہنساتے ہنساتے شام ہو گئی

نہ جاگے غفلت کی نیند سونے والے، رافی
اب تو غیر جگاتے جگاتے شام ہو گی
حسنین رافی

Related posts

زمیں کی بات کرتے ہیں

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

مرد کے حصے کا ہجر