سکون و صبر کا اُمید

سکون و صبر کا اُمید وار ہے اب تک

نہ جانے کس کے لئے بیقرار ہے اب تک

کسی کے جلوۂ رنگیں کی جاذبیت سے

مرا وجود برنگِ بہار ہے اب تک

وہ اپنی وعدہ خلافی پہ ہو گئے نادم

اسی لئے تو مجھے اعتبار ہے اب تک

اُٹھا تھا ایک ہی پردہ ہزار پردوں میں

جہاں میں تذکرۂ حسنِ یار ہے اب تک

جلے ہوئے مرے دل کو ، ہوا زمانہ شکیل

کسی کی برقِ نظر شعلہ بار ہے اب تک

 

شکیلؔ بدایونی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل