ساگر

میں نے غور سے اس گہرے تاریک ساگر کو دیکھا ۔ جس کی چکنی پرسکون سطح بڑی پرکشش تھی ۔ میں نے سوچا اس کی تہہ میں ضرور قیمتی موتی ہوں گے ۔ میں نے چشم تصور سے ان موتیوں کو دیکھنے کی تمنا کی اور غور سے ساگر کی سطح کو دیکھا تو اس پر کچھ نشانات بنے ہوئے تھے ۔ میں نے ان کو پہچان لیا یہ میرے آباؤ اجداد کی آخری سانسوں سے پیدا ہوئے تھے ۔ جو ساگر کی اتھاہ گہرائیوں سے ڈوبتے اُبھرتے اس سطح پر آ کر ٹوٹ گئے تھے ۔۔۔ میرے اجداد جو اس عمیق ساگر کی کوکھ سے مراد پانے کو اس میں کود گئے تھے ۔ لیکن میرے اجداد کی بھینٹ لے کر بھی اس ساگر کی خونی پیاس نہ بُجھی ۔ اس کی سطح آج بھی ابن آدم کے لیے بدستور حسین اور پرکشش بنی ہوئی ہے تاکہ ابن آدم نسل در نسل اس سے فریب کھاتا رہے ۔ میں نے سوچا مجھے لوٹ جانا چاہئے ۔ اس سے پہلے کہ یہ مجھے غرقاب کر دے ۔
لیکن پھر خیال آیا کہ اپنے وجدان کی قوتوں کو مجتمع کر کے اس کی سیاہ گہرائی کو جانچنا ضروری ہے یہ سوچ کر میں نے اس کی گہرائی میں اترنا شروع کر دیا سفر کرتے کرتے نہ جانے کتنے برس بیت گئے لیکن مجھے ساگر کی تہہ کا کوئی سراغ نہ ملا میں نے اپنا سفر جاری رکھا لیکن مجھ پر یہ راز کھلا کہ اس ساگر میں تو کوئی موتی نہیں بلکہ اس کی تو کوئی تہہ ہی نہیں ۔ اس کی گہرائی کی انتہا تو محض اس کی سطح ہے مجھے اپنے اجداد کا افسوس ہونے لگا جو چمکدار موتیوں کی تلاش میں اس کالے ساگر میں کود پڑے اور پھر اس کے گول چکر میں پھنس کر اپنی جانیں گنوا بیٹھے ۔ آج بھی سیاہ ساگر کی چمکیلی سطح اپنے فریب سے جگمگا رہی ہے اور کنارے پر کئی نسلیں قطار در قطار اس کی کھوج میں اپنی باری کا انتظار کر رہی ہیں ۔

منزہ انور گوئیندی

Related posts

خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

انجمن پنجاب

تنقید کیا ہے