میرا نام ریت کے ذروں پہ لکھا گیا ۔۔ اگر کوئی سرپھری ہوا مجھے اُڑا لے گئی تو شکوہ کیسا ۔۔۔مجھے بکھرنا تھاسو بکھر گئے ۔۔ سورج سے کہو رزد غبار بکھیرے ۔۔۔ تاکہ روشنی مجھے یکجا کرے اور ایک بار پھر مجھے مجسمہ کی شکل مل جائے ۔۔۔ لیکن روح کہاں سے آئے گی ؟؟؟؟ ۔۔۔ روح جس کی تجدید کی ضمانت نہیں دی گئی ۔۔۔ روشنی کی حقیقت تو اس مسافر سے زیادہ نہیں جو کچھ دیر کے لیے سرائے میں قیام کرتا ہے ۔۔۔ اور پھر راستوں کے پیچ و خم میں گم ہو جاتا ہے ۔۔۔ میں اُس لمحہ کی تلاش میں ہوں جب میرا وجود اپنے ہونے کی گواہی دے گا ۔۔۔ اور یہ صدیوں پرانی کائنات اندھیرے میں تحلیل ہو جائے گی ۔۔۔ میرے کمرے سے باہر تا حد نظر پھیلی ہوئی کائنات میرے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی ۔۔۔ میں نے ازل سے رونق کائنات کو اپنی ذات کے تعلق سے پہچاننا سیکھا ہے ۔۔۔ میری آنکھیں کمرے سے باہر چیختے اندھیرے میں دیکھ رہی ہیں ۔۔۔ جہاں ہر آدمی اپنے زخمی کاندھوں پر اپنی انا کی صلیب اُٹھائے منزل کی تلاش میں بھٹک رہا ہے ۔۔۔ میں صدیوں پرانی تنہائی کا ہاتھ تھامے شام گریاں کے دھندلکوں سے گزرنے والی ہوں ۔۔۔ مجھے اُفق کے اُس پار اُترنا ہے ۔۔۔ جہاں میری روح بے سر و سامانی کے عالم میں جانے کب سے میرا انتظار کر رہی ہے ۔
منزہ گوئیندی