ساز، یہ کینہ ساز کیا جانیں

ساز، یہ کینہ ساز کیا جانیں
ناز والے نیاز کیا جانیں
کب کسی در کی جُبّہ سائی کی
شیخ صاحب نماز کیا جانیں
جو رہِ عشق میں قدم رکھیں
وہ نشیب و فراز کیا جانیں
پوچھئے مے کشوں سے لطفِ شراب
یہ مزہ پاک باز کیا جانیں
حضرتِ خضر جب شہید نہ ہوں
لطفِ عمرِ دراز کیا جانیں
جو گزرتے ہیں داغ پر صدمے
آپ بندہ نواز کیا جانیں

داغ دہلوی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل