رنگ

رنگ

آج صبح پہاڑی کی اوٹ میں
بہتے چشمے کا پانی پیتے سمے
تیرے نیلے کوٹ کی تپش نے ستایا تو
میں اپنے سٹوڈیو میں چلی گئی
وہاں اسے اتار کر بورڈ کے ساتھ لٹکا دیا
اور جسم سے لپٹے لمس کو
انگلیوں کے پوروں سے
بُرش میں اتارنے لگی
جب رنگ کی بے ترتیب دھاروں نے
تیرا روپ دھارا تو
تُوں نے اپنا بازو میری کمر کے گرد حمائل کر دیا
میرے گالوں پر پھیلتا سُرخی مائل رنگ
تیرے بائیں کان کے ساتھ بورڈ پر منتقل ہونے لگا
پھر تھرتھراتے برش میں سے لمس میری جانب ایسے مڑا
جیسے بیک کرنٹ ٹھنڈی تاروں سے نکل کر
پوری طاقت سے ڈستا ہے
اور پھر میری انگلیوں نے اکٹھے ہو کر جب
تیری سفید شرٹ پر سلوٹیں بھر دیں
تب دیوار سے جھانکتی کسی دُز دیدہ نگاہ نے
اسے کینوس پر اتار کر
رنگوں کو ہوس زدہ قرار دے دیا

سمیع اللہ خان

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے