رنگ جب کوئی لب دیدۂ تر آئے گا

رنگ جب کوئی لب دیدۂ تر آئے گا
نقش کیا کیا نہ کف خاک میں در آئے گا

ہفت افلاک کے آہنگ فراموشی کو
دیکھتے رہیے کہ دیوار میں در آئے گا

میں تو بچ بچ کے زمانے سے چلوں گا لیکن
آنے والوں کو مرا نقش نظر آئے گا

جانے کب حد زماں اور مکاں راستہ دیں
ایک سیارہ ادھر ہے جو ادھر آئے گا

عثمان علوی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

آمد

چلو چلیں