رخِ مصطفیٰ ہے صحیفہ ہمارا
مصلّیٰ وہ نقشِ کفِ پا ہمارا
یہ قرآن ہے اور یہ نہجِ بلاغۃ
یہ منزل ہے اور یہ ہے رستہ ہمارا
علی و محمد میں نقطہ نہیں ہے
سمجھ کے تو دیکجھو یہ نکتہ ہمارا
کہاں تم کہاں ایک بے سایہ پیکر
ہمیں طعنے دیتا ہے سایہ ہمارا
کفن پہ بھی یا مصطفیٰ لکھ لیا ہے
نہ حالات بدلیں گے قبلہ ہمارا
نہاں ایک چادر میں ہیں پانچ چہرے
مدینے میں ہے اک مدینہ ہمارا
مدینے سے ہم کربلا کو چلے تھے
ملا جاکے جنت سے رستہ ہمارا
عطائے محمد عطائے علی ہیں
یہ الفاظ اپنے یہ لہجہ ہمارا
طارق قمر