انجمنِ مداحینِ مسٹر چیری بلاسم کا ایک غیر معمولی اجلاس عارفِ زماں، خطیب نکتہ داں، جامع العقول و المنقول جناب قبلہ کرگس جہاں زاد مدظلہ العالی کی کوٹھی ” دار الفکر”پر منعقد ہوا ، جس میں شریک تمام اراکین نے مسٹر چیری بلاسم کی نئی دریافت ” غالب کے دیسی ٹوٹکے” پر نہ صرف سیر حاصل بحث کی بلکہ اس کے ساتھ مسٹر چیری بلاسم کی تبحر علمی او ر وسعتِ مطالعہ پر بھی تعریف کے ڈونگرے برسائے ، جن کی وساطت سے یہ مخطوطہ سب سے پہلے غالب کی جنم بھومی کی بجائے اشرافستان میں برآمد ہوا ۔ اس انتہائی اہم اجلاس کی صدارت شرفاء کے بے حد اصرار پر مسٹر چیری بلاسم نے خود ہی فرمائی جو اپنی گوناگوں مصروفیات میں سے وقت نکال کر تشریف لائے اور اجلاس کے اختتام تک تمام کاروائی کو ملاحظہ فرماتے رہے۔اس اجلاس کے لیے سٹیج سیکریٹری کے فرائض جناب ” چونا بھائی پانی پوری” نے سر انجام دیے ، جو اپنی چیری بلاسم طبیعت کی بدولت اب مسٹر چیری بلاسم کا قرب پانے میں کافی حد تک کامیاب ہوچکے ہیں۔
اجلاس کے آغاز میں چونا بھائی پانی پوری نے ، جناب ” تن من بگولہ” صاحب کو دعوتِ کلام دی جنہوں نے اپنا توصیفی مضمون ” غالب شناسی میں مسٹر چیری بلاسم کا کردار” پڑھ کر شرکائے مجلس سے خوب داد سمیٹی۔ اُن کے بقول "مسٹر چیری بلاسم کی ذاتِ بابرکات ملکِ اشرافستان کے علاوہ خود مرزا غالب کیلئے بھی کسی نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں، جنہوں نے اس مادہ پرستی او ر ملٹی نیشنل انگلش میڈیسنز کے زمانے میں ” غالب کے دیسی ٹوٹکے” نامی کتاب کو مٹنے سے بچا لیا جو دراصل مخطوطے کی شکل میں ایک کباڑی کے پاس شاپنگ بیگ میں پڑی تھی اور اوپر ” برائے فروخت ” کی تحریر جلی حروف سےلکھی ہوئی تھی۔ یہ آنجناب کی ہی نظر کا کرشمہ او ر وسعتِ علم کا شاخسانہ ہے جنہوں نے اس جنسِ ارزاں کو گوشہ گمنامی سے اٹھا کر اسے راتوں رات چار کی بجائے پانچ چاند لگا دیے۔ اردو ادب اور مشرقی حکمت پر یہ اتنا بڑا احسان ہے جس کے آگے گردن نہیں اٹھائی جا سکتی”۔ جناب تن من بگولہ صاحب کی تقریر کو سن کر مسٹر چیری بلاسم اس قدر مسرور ہوئے کہ اُنہوں نے صاحبِ مضمون کو اپنی جیبِ خاص سے مبلغ پچاس روپے جن کے نصف پچیس روپے ہوتے ہیں وہ دینے کا اعلان کیا جو اُن کے بقول انجمن کے آئندہ منعقدہ اجلاس مورخہ تیس فروری کو ایک بہت بڑے مجمع عام کے سامنے دیے جائینگے تاکہ سند رہے او ر بوقتِ ضرورت کام آئے۔ تمام حاضرین اس اعلان پر خوشی سے جھوم اٹھے اور تن من بگولہ صاحب کو اٹھا کر پہلے ہوا میں اچھال کر پھر یوں زمین پر پٹخا کہ اب شہر کی سرکاری ہسپتال میں اپنی وصیت لکھوا رہے ہیں۔
جناب تن من بگولہ صاحب کے توصیفی مگر پر مغز مضمون کے بعد ، آقا جان کا نام قرعہ فال میں نکلا، جنہوں نے آتے ہی مسٹر چیری بلاسم کی بجائے ادب کی زبوں حالی بیان کرنا شروع فرمادی، جسے سُن کر تمام مجلس کے تن بدن میں آگ لگ گئی ۔ یہ مضمون کیونکہ حزبِ اختلاف کا کام کر رہا تھا اور اس کے ساتھ اس میں بغاوت کی بو بھی نمایاں تھی سو مسٹر چیری بلاسم کے اشارے سے چاروں طرف سے ایک ہی صدا آنے لگی کہ ” اس گستاخ اور ناقدر شناس کوباہر نکالو”۔یہ نعرہ بلند ہونے کی دیر تھی کہ کچھ فرمانبردار ہٹے کٹے نوجوان جو حلیے سے بالکل بھی بدمعاش نہیں لگتے تھے وہ آگے بڑھے اور آقا جان کو اپنے ناتواں کندھوں پہ اٹھا کر ایک گندے نالے میں پھینک آئے تاکہ وہ نالے سے نکلنے کے بعد واپس مجلس کی بجائے سیدھا گھر کا رخ کریں۔
اب محفل کا رنگ بھی بدل چکا تھا اور شرکائے مجلس بھی بھوک سے بے حال ہونا شروع ہوگئے تھے ، سو ایسے میں جناب ” نادار زمانی سہارن پور والے” صاحب کو دعوت دی گئی کہ وہ آکر حکیم بجو کی کتاب ” جواہر الحکمت” سے لطیفے سنا کر محفل کو کشتِ زعفران بنائیں۔جناب نادار زمانی سہارن پور والے لاری اڈے پر منجی بستر کرائے پر دیتے ہیں اور جن کا شمار نہ صرف مسٹر چیری بلاسم کی کچن کیبنٹ میں ہوتا ہے بلکہ اُن کی ادب پروری کا ایک زمانہ معترف ہے۔آپ کی ادب پروری کا اس سے بڑاثبوت اور کیا ہو کہ آپ اپنے یہاں ٹھہرنے والے مسافروں کو نہایت ادب سے ٹھہرا کر، نہایت ادب سے اُن کی جیب صاف کرکے صبح اُنہیں صبر کی تلقین کرکے رخصت کر دیتے ہیں۔ آپ کی سخن فہمی اور ادب شناسی کا یہ عالم ہے کہ آپ کثیر العیال اور فارغ البال ( موصوف تقریبا سارے گنجے ہیں) ہونے کے باوجود ” روزنِ پروین اور دہلیز آشفتہ” سمیت آٹھ بچے پیدا کر چکے ہیں جن کی شیریں لسانی اور نکتہ سنجی کی بدولت کوئی شریف انسان گلی سے گزرنے کی جرات نہیں کر سکتا۔
جب رات کے تقریبا دو بج چکے اور سگانِ کوچہ کرگس پورہ نے بھی بھونکنا بند کردیا، اُس وقت شمعِ محفل جناب کرگس جہاں زاد صاحب کے سامنے لائی گئی، جو اُس وقت تک شربت فولاد کی بھاری مقدار لنڈھانے کے بعد اب مخبوط الحواس ہوکر ہوش خرد سب تج کیے بیٹھے تھے۔” حضراتِ گرامی اور میرے دن رات کے دوستو! جناب مرزا غالب اور جناب چیری بلاسم کے درمیان دوستی کو نصف صدی ہوچکے ہیں مگر آج بھی یہ رشتہ قائم و دائم ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ مسٹر چیری بلاسم نے آج تک غالب کو ایک روپے کا بھی ادھار نہیں دیا ہے”۔ ادھر سب حاضرین باآوازِ بلند ” بہت خوب، کیا کہنے” کی صدائے آفرین بلند کر رہے تھے، اُدھر مسٹر چیری بلاسم لڑکھڑاتے ہوئے بیت الخلاء جانے کیلئے اپنی جوتیاں ڈھونڈ رہے تھے۔” اور میں آج بھی اس بات پر کامل یقین رکھتا ہوں کہ ادھار محبت کی قینچی ہے۔اسی لئے ہمارے ممدوح جناب چیری بلاسم صاحب ایک کامیاب انسان کہلوائے جاتے ہیں کہ وہ کسی کا ادھار نہیں رکھتے بلکہ جس سے لینا ہو ، اُس سے بزورِ شمشیر وصول کرتے ہیں اور دینے والے کو ایسے ترسا ترسا کر واپس کرتے ہیں کہ اُسے چھٹی کا دودھ یاد آجاتا ہے۔ یہ ان کی ایسی خوبی ہے جو ان کی ہزار برائیوں پر بھاری ہے۔ اور یہی وہ اعلیٰ معاشرتی اوصاف ہیں جو جناب چیری صاحب ادارہ تحفظ درباری قصیدہ گوئی کے ذریعے نئی نسل کو منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ اور یہ اتنا بڑا کام ظاہر ہے ایک پارٹی کے بغیر ممکن نہیں، لہذا آپ سب حاضرین سے التماس ہے کہ وہ اس نیک کام میں اُن کا ہاتھ بٹائیں تاکہ ہم ادھار واپس مانگنے والوں کا قلع قمع کرکے، اپنی آئندہ نسلوں کو ادھار جیسی لعنت سے پاک کر سکیں”۔
جنابِ صدر کی اس پر مغز اور فلسفہ ء ادھار سے لبریز تقریر سننے کے بعد، اب باری تھی اُن صاحب کی جن کی خطابت کا اس شہر میں طوطی بول رہا تھا اور جو فنِ چرب زبانی کو اس مقام تک پہنچا چکے تھے ، جہاں تک پہنچنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ہے۔ موصوف اب بیت الخلاء سے واپس بھی آچکے تھے اور طبیعت میں بھی ایک انشراح کی سی کیفیت عود آئی تھی لہذا آپ نے اپنی حکمت سے لبریز تقریر میں فرمایا،” اس وقت آرٹیفیشل انٹیلی جینس کا عفریت بہت سے شعبہ جات کو ختم کرکے ، معاشرے میں بے روزگاری پیدا کر رہا ہے۔ مگر گھبرائیے مت! کہ اے آئی لاکھ کوشش کے باوجود بھی فنِ چرب زبانی اور درباری قصیدہ گوئی المعروف بٹرولوجی کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ اور میری بصیرت بھری نگاہ یہ منظر دیکھ رہی ہے جب ساری دنیا کے بٹرولوجسٹ اس فیلڈ میں سپیشلائزیشن کرنے ہمارے یہاں آئیں گے اور تب ہم ادارہ تحفظ درباری قصیدہ گوئی اُن کو چھ چھ ماہ اور ایک ایک سال کے ڈپلومہ کورسز کرواکے ، کثیر زرِ مبادلہ کمائیں گے جس سے نہ صرف ہماری اپنی معیشت بہتر ہوگی بلکہ اشرافستان کی اشرافیہ کی بھی خوشحالی اور ترقی میں اضافہ ہوگا”۔ ابھی آپ مزید خطاب جاری رکھنا چاہتے تھے مگر شرکائے محفل میں سے ایک صاحب کی جیب کٹ گئی اور اُنہوں نے فورا نادرار زمانی سہارن پور والے صاحب کا دامن پکڑ لیا، جس کے بعد محفل میدان جنگ میں بدل گئی او ر صبح صادق ہونے تک آدھے افراد ہسپتال جبکہ بقیہ آدھے افراد حوالات میں پہنچ کر نیند پوری کر رہے تھے۔ البتہ قبلہ چیری بلاسم اور کرگس جہاں زاد اپنی دیدہ بینی اور بصیرت کی بدولت جائے وقوعہ سے غائب ہوکر ، ایک ملنگ کے ڈیرے پر آرام فرمانے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے نقشے اور ممکنہ امکانات پر غور کر رہے تھے۔
واجد علی گوہر