روتی آنکھوں سے جو گُل باری ہے

روتی آنکھوں سے جو گُل باری ہے
کسی فن کار کی فن کاری ہے

تُجھ سے پہلے بھی کئی آئے ، گئے
تُو بتا کب تری تیّاری ہے

کبھی تیرہ شبی کے کَیا کہنے
اور کبھی رات پہ دن بھاری ہے

مر گئے عشق نبھاتے ہوئے ہم
لوگ سمجھے کہ اداکاری ہے

آج پھر خواب میں آیا تھا وہ
آج پھر سانس میں دشواری ہے

سمیرؔ شمس

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی