رہنمائی کے لئے ہم نے سہارا باندھا

رہنمائی کے لئے ہم نے سہارا باندھا
گھر سے جاتے ہوئے گٹھڑی میں ستارا باندھا

اب کوئی ورد بتا مجھ کو یہ وحشت جائے
عشق تعویذ بہت میں نے اتارا باندھا

رنگ بھرنے چلے آئے وہیں منظر سارے
جس طرح پر تری نظروں نے اشارہ باندھا

جس نے رکھا مری آنکھوں میں سمندر پہلے
اس نے اطراف میں پلکوں سے کنارا باندھا

نم اٹھایا ہے کسی آنکھ سے شب نے عثمان
تب کہیں تیرگی میں کوئی نظارا باندھا

عثمان اقبال خان

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا