چراغ ساعت رفتہ سرنگ میں گم ہے

چراغ ساعت رفتہ سرنگ میں گم ہے
نگاہ آئنہ خانہء تنگ میں گم ہے

کسی طلسم نما اسم کی ضرورت ہے
مرا وجود کہ مدت سے زنگ میں گم ہے

تم آئنوں میں خدوخال ڈھونڈتے ہو کہاں
ہماری خاک کا پیکر تو سنگ میں گم ہے

امڈ پڑا ہے عجب سلسلہ سرابوں کا
بہار جیسے خزاوں کے رنگ میں گم ہے

مری نظر میں نہیں اب کوئی سراغ ترا
سو اب یہ دشت الگ ہی ترنگ میں گم ہے

حدود شب سے نکلنا ہے اب اسے عثمان
مرا چراغ کسی اور امنگ میں گم ہے

عثمان اقبال خان

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے