رسم کے مت اسیر ہو جاؤ

رسم کے مت اسیر ہو جاؤ
وقت کے ہم سفیر ہو جاؤ

بارہا ٹوٹنے سے بچ پاؤ
تم اگر حل پزیر ہو جاؤ

اختلافات سے نکل آؤ
بحث چھوڑو فقیر ہو جاؤ

چھوڑ کر سب لڑائی جھگڑوں کو
امن کے تم سفیر ہو جاؤ

اُس کی مخلوق کا بھلا چاہو
اور خیرِ کثیر ہو جاؤ

کام ایسا کرو کوئی فائز
بے مثل بے نظیر ہو جاؤ

سلیم فائز

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل