مختصر ہو گفتگو بات صاف صاف ہو

مختصر ہو گفتگو بات صاف صاف ہو
اور سچ زبان پر عین واشگاف ہو

یہ عجب رواج ہے وحشیوں کے شہر کا
اُُس کو جاں سے مار دو جس سے اختلاف ہو

دشمنانِ جاں کو بھی بڑھ کے تُو سلام کر
اس کی بھی تُو خیر مانگ جو تِرے خلاف ہو

سامنے کھڑا ملے روبرو خدا تجھے
مثلِ آئنہ اگر روح بھی شفاف ہو

بن طلب کسی کو بھی آگہی نہیں ملی
کوئی جستجو کرے تو اس پہ انکشاف ہو

اس کو مان لیجئے جس میں جو کمال ہے
صفت اگر عدو میں ہو تو اس کا اعتراف ہو

اپنے قول و فعل کا سخت احتساب کر
دوسروں کی بھول چوک خوش دلی معاف ہو

سلیم فائز

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے