رگوں سے یاد کا نیلا لہو نچوڑتا ہوں

رگوں سے یاد کا نیلا لہو نچوڑتا ہوں
میں باغ ہجر سے ہر شام پھول توڑتا ہوں

یہ اور بات کبھی جاگتے نہیں ہیں ہم
اسے ہلاتا ہوں خود کو کبھی جھنجھوڑتا ہوں

ہوائے رفتہ کی آہٹ سے ٹوٹ جاتی ہیں
وہ پتیاں جنہیں ایک ایک کر کے جوڑتا ہوں

یہ گرد باد اسے ہی تباہ کرتا نہیں
میں اپنا رخ کبھی اپنی طرف بھی موڑتا ہوں

سعید شارق

Related posts

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا