رازِ وفائےناز

رازِ وفائےناز پھر دل کو بتا گیا کوئی

جیسے مُراد واقعی عشق میں پا گیا کوئی

یوں تیری بزمِ ناز سے اُٹھ کے چلا گیا کوئی

جذبۂ شوقِ مطمئن راہ پر آ گیا کوئی

سینے میں روح دردِ دل بن کے سما گیا کوئی

ویسے ہی درد کم نہ تھا ، اور بڑھا گیا کوئی

شانِ نیاز دیکھنا ، شوخیِ ناز دیکھنا

نیت سجدہ جب ہوئی سامنے آ گیا کوئی

ختم ہوئی کشاں کشاں فکرونظر کی داستاں

اب غمِ جستجو کہاں ، دل ہی میں آ گیا کوئی

لوگ اسے جنوں کہیں یا نہ کہیں شکیل

میں تو کسی کا ہو چکا ، مجھ میں سما گیا کوئی

 

شکیلؔ بدایونی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا