محو ہوں میں جو اس ستمگر کا

محو ہوں میں جو اس ستمگر کا
ہے گلہ اپنے حالِ ابتر کا

حال لکھتا ہوں جانِ مضطر کا
رگِ بسمل ہے تار مسطر کا

آنکھ پھرنے سے تیری، مجھ کو ہوا
گردشِ دہر دور ساغر کا

شعلہ رو یار، شعلہ رنگ شراب
کام یاں کیا ہے دامنِ تر کا

شوق کو آج بے قراری ہے
اور وعدہ ہے روزِ محشر کا

نقشِ تسخیرِ غیر کو اس نے
خوں لیا تو مرے کبوتر کا

میری ناکامی سے فلک کو حصول؟
کام ہے یہ اُسی ستم گر کا

اُس نے عاشق لکھا عدو کو لقب
ہائے لکھا مرے مقدر کا

آپ سے لحظہ لحظہ جاتے ہو
شیفتہ ہے خیال کس گھر کا

مصطفیٰ خان شیفتہ

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے