رات بھر جاگنا قبول کیا

رات بھر جاگنا قبول کیا
عشق میں فاصلہ قبول کیا

مستقل آپ کی خوشی مانگی
اور ہم نے خدا قبول کیا

اس نے جس سمت بھی اٹھائے ہاتھ
ہم نے وہ راستہ قبول کیا

تجھ سے رشتہ نہیں بنایا کوئی
تجھ کو بے ساختہ قبول کیا

حفظ ہوتی گئی تری ہر بات
تیرا ہر ذائقہ قبول کیا

تجدید قیصر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا