قلب و جگر کو اضطراب نے مارا ہوگا

قلب و جگر کو اضطراب نے مارا ہوگا
بن پڑھے جب اس نے خط میرا پھاڑ ہوگا !

میرے مقدر کا ستارہ گردش میں رہتا ہے
میرا بخت، بھی میرا ہونے سے پہلے دھاڑا ہوگا !

جو بھی اس کو دیکھنے دل ہار بیٹھے
جس کو اس نے چایا، وہ کتنا پیارا ہوگا !

اور اپنے دکھ میں کسی کا دل نہیں دکھاتے
ہرموڑ پے لگتا ہے، وہی حادثہ دوبارہ ہوگا !

تم جس کا پوچھتے ہو تو بتا دو تم کو
جو میرا نہ ہوا تم کو لگتا ہے ,تمہارا ہوگا؟

نگار فاطمہ انصاری

Related posts

زمیں کی بات کرتے ہیں

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

مرد کے حصے کا ہجر