پوچھا کسی نے حال کسی کا تو رو دیے

ساغر صدیقی

پوچھا کسی نے حال کسی کا تو رو دیے

پانی میں عکس چاند کا دیکھا تو رو دیے

نغمہ کسی نے ساز پہ چھیڑا تو رو دیے

غنچہ کسی نے شاخ سے توڑا تو رو دیے

اڑتا ہوا غبار سرِ راہ دیکھ کر

انجام ہم نے عشق کا سوچا تو رو دیے

بادل فضا میں آپ کی تصویر بن گئے

سایہ کوئی خیال سے گزرا تو رو دیے

رنگِ شفق سے آگ شگوفوں میں لگ گئی

ساغر ہمارے ہاتھ سے چھلکا تو رو دیے

ساغر صدیقی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل