پہلے تو آتی تھیں عیدیں بھی تمہارے آئے

پہلے تو آتی تھیں عیدیں بھی تمہارے آئے
خیریت اب کے تم آئے تو اکیلے آئے

تیری بے ساختہ حیرانی کہاں ہے اے دوست
ہم تو آتش کہیں ایندھن کے عوض دے آئے

اب تو رہزن ہی کوئی روکے تو معلوم پڑے
رہنما کیسے اجاڑوں میں ہمیں لے آئے

ہم تو یک رنگ اجالے سے ہی مسحور رہے
روشنی تجھ میں یہ ست رنگ کہاں سے آئے

ہم نے بیچی تھیں جہاں نیندیں اسی منڈی سے
تیری آنکھوں کے لیے خواب سہانے آئے

اکرام اعظم

Related posts

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا