پاکستان کی سرزمین صوفیاء اور اولیائے کرام کی سرزمین کہلاتی ہے۔ اس دھرتی پر بے شمار ایسی عظیم شخصیات گزری ہیں جنہوں نے اپنی زندگی انسانیت کی خدمت، روحانیت کے فروغ اور معاشرے کی اصلاح کے لیے وقف کر دی۔ انہی روحانی روایتوں سے جڑا ہوا ایک اہم نام حضرت دیوان چاولی مشائخ المعروف حضرت بابا حاجی شیر دیوان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا ہے، جن کا مزار آج بھی عقیدت مندوں کے لیے روحانی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔
اسی روحانی ماحول اور روایت سے وابستہ ایک شخصیت پیر فتح شیر دیوان کی بھی ہے۔ پیر فتح شیر دیوان کا تعلق ضلع وہاڑی کے علاقے دیوان صاحب، ڈاک خانہ خاص، چک نمبر 317 ای بی تحصیل بوریوالہ سے ہے۔ یہی وہ علاقہ ہے جہاں حضرت بابا حاجی شیر دیوان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا مزار واقع ہے اور جہاں دور دراز سے لوگ حاضری دینے آتے ہیں۔
پیر فتح شیر دیوان ولد پیر احمد علی دیوان پاکستان کی ایک باوقار اور بااخلاق شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی پیدائش 25 فروری 1997 کو دیوان صاحب میں ہوئی۔ روایت کے مطابق ان کا نام ان کے والد محترم پیر احمد علی دیوان نے رکھا۔ بچپن ہی سے وہ ایک مذہبی اور روحانی ماحول میں پروان چڑھے جس نے ان کی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔
پیر فتح شیر دیوان نہ صرف ایک روحانی پس منظر رکھنے والی شخصیت ہیں بلکہ وہ ایک سماجی کارکن کے طور پر بھی پہچانے جاتے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے علاقے اور معاشرے کے لوگوں کے مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل کے لیے کوششیں کی ہیں۔ ان کی طبیعت میں سادگی، نرم دلی اور لوگوں کے ساتھ خلوص سے پیش آنے کی خوبی نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ان کا احترام کرتے ہیں اور انہیں ایک نیک صفت انسان کے طور پر جانتے ہیں۔
آج کے دور میں میڈیا ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے جس کے ذریعے عوام تک پیغام پہنچایا جا سکتا ہے۔ پیر فتح شیر دیوان نے اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی کام کیا اور اس کے ذریعے مثبت پیغام کو عام کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے مختلف مواقع پر حضرت بابا حاجی شیر دیوان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت، ان کی روحانی خدمات اور ان کے پیغام کو اجاگر کرنے کے لیے میڈیا کا سہارا لیا۔
اس کے علاوہ وہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے بھی لوگوں تک مثبت پیغام پہنچاتے رہتے ہیں۔ وہ اپنی تحریروں اور پیغامات میں محبت، اخوت، برداشت اور انسانیت کی خدمت جیسے موضوعات پر بات کرتے ہیں۔ ان کی یہ کوشش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ صرف ماضی کی روحانی روایتوں کو زندہ رکھنے تک محدود نہیں بلکہ جدید دور کے ذرائع کو بھی معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
یہ حقیقت بھی قابلِ ذکر ہے کہ ایسے لوگ معاشرے کے لیے ایک مثال ہوتے ہیں جو اپنی ذاتی مصروفیات کے باوجود دوسروں کی بھلائی کے لیے کام کرتے ہیں۔ پیر فتح شیر دیوان بھی انہی افراد میں شامل ہیں جو انسانیت کی خدمت کو اپنا مقصد سمجھتے ہیں۔ وہ اپنے علاقے کے لوگوں کے ساتھ قریبی تعلق رکھتے ہیں اور ہمیشہ ان کے مسائل میں دلچسپی لیتے ہیں۔
آج کے دور میں جب معاشرے میں مادیت پسندی اور خود غرضی بڑھتی جا رہی ہے، ایسے میں پیر فتح شیر دیوان جیسے افراد امید کی ایک روشن مثال بن کر سامنے آتے ہیں۔ ان کی شخصیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اگر انسان اخلاص، محبت اور خدمتِ خلق کے جذبے کے ساتھ زندگی گزارے تو وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پیر فتح شیر دیوان کی شخصیت ایک ایسی مثال ہے جس میں روحانیت، سماجی خدمت اور جدید ذرائع ابلاغ کے مثبت استعمال کا خوبصورت امتزاج نظر آتا ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ معاشرے کی خدمت کرتے رہیں گے اور حضرت بابا حاجی شیر دیوان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے روحانی پیغام کو آگے بڑھاتے رہیں گے۔
خیر اندیش
نعمان علی بھٹی