پی کے تلخابۂ غم جاتے ہیں

پی کے تلخابۂ غم جاتے ہیں
لے تری بزم سے ہم جاتے ہیں

جب سے اٹھ آئے تری محفل سے
ہم کہیں اور بھی کم جاتے ہیں

جانے اس راہ میں کیا کھو آئے
روز کچھ ڈھونڈنے ہم جاتے ہیں

ان کے غصے کے نہ تیور بدلے
ورنہ طوفان بھی تھم جاتے ہیں

جب سے ٹوٹا ہے سفینہ باقیؔ
ساتھ ہر موج کے ہم جاتے ہیں

باقی صدیقی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا