آپ سے آشنائی کرتے ہیں

آپ سے آشنائی کرتے ہیں
بات اپنی پرائی کرتے ہیں

کر رہے ہیں کوئی خطا جیسے
اس طرح ہم بھلائی کرتے ہیں

جن پہ ہوتا ہے اعتبار وہی
وقت پر بے وفائی کرتے ہیں

راہ سے آشنا نہیں پھر بھی
حسرت رہنمائی کرتے ہیں

بھول جاتے ہیں خود کو بھی باقیؔ
لوگ جب ہمنوائی کرتے ہیں

باقی صدیقی

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے