پایان فارم

ہم لوگ تو ظلمت میں جینے کے بھی عادی ہیں
اس درد نے کیوں دل میں شمعیں سی جلا دی ہیں
اک یاد پہ آہوں کا طوفاں امڈتا ہوا آتا ہے
اک ذکر پہ اب دل کو تھا ما نہیں جا تا ہے
اک نام پہ آنکھوں میں آنسو چلے آتے ہیں
جی ہم کو جلاتا ہے ہم جی کو جلاتے ہیں
ہم لوگ تو مدت سے آوارہ و حیراں تھے
اس شخص کے گیسو کب اس طور پریشاں تھے
یہ شخص مگر اے دل پردیس سدھارے گا
یہ درد ہمیں جانے کس گھاٹ اتارے گا
عشق کا چکر ہے انشا کے ستاروں کو
ہاں جا کے مبارک دو پھر نجد میں یاروں کو

ابن انشاء

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا