پاکستانی میڈیا: قومی بیانیہ، چیلنجز اور امکانات
پاکستان کا میڈیا آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اسے قومی بیانیے کی تشکیل اور ترویج میں بنیادی کردار ادا کرنے کا موقع بھی ہے اور یہ اس کی سب سے بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ جدید دنیا میں ریاستوں کی پالیسیوں، عوامی شعور اور سماجی اقدار پر سب سے گہرا اثر میڈیا ہی ڈالتا ہے۔ میڈیا کو اکثر ریاست کا ”چوتھا ستون” کہا جاتا ہے کیونکہ یہ عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کے ساتھ مل کر معاشرتی ڈھانچے کو متوازن رکھنے کی طاقت رکھتا ہے۔ مگر افسوس کہ پاکستان میں یہ ستون خود زوال اور بحران کا شکار نظر آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی میڈیا اس عظیم ذمہ داری کو صحیح معنوں میں ادا کر رہا ہے یا مختلف چیلنجز اور دباؤ کے باعث اپنی سمت کھو بیٹھا ہے؟
پاکستانی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قومی بیانیہ ہمیشہ سے واضح اور متفقہ نہیں رہا۔ قیامِ پاکستان کے بعد میڈیا سے توقع تھی کہ وہ نئی ریاست میں اتحاد، یکجہتی اور تعمیرِ وطن کا بیانیہ تشکیل دے گا، لیکن ابتدا ہی سے میڈیا پر مختلف دباؤ حاوی رہے۔ کبھی ریاستی سنسر شپ نے صحافت کو محدود کیا، کبھی سرمایہ دارانہ مفادات نے اسے یرغمال بنایا، اور کبھی سیاسی جماعتوں نے اسے اپنے پروپیگنڈے کا ہتھیار بنایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عوام کو ہمیشہ ایک بکھری ہوئی اور متضاد تصویر دکھائی گئی۔
آج بھی یہی صورت حال جاری ہے۔ میڈیا اگرچہ آزادیٔ اظہار کے نام پر سرگرم ہے مگر اس آزادی کی جڑیں کمزور ہیں۔ اکثر ادارے اس آزادی کو اپنی تجارتی بقا اور ریٹنگ کی دوڑ تک محدود رکھتے ہیں۔ سنسنی خیز خبریں، چیخ چیخ کر ہونے والے ٹاک شوز اور سطحی مباحثے اس بات کا ثبوت ہیں کہ میڈیا نے عوامی مسائل کے بجائے اپنے کاروباری مفاد کو ترجیح دی ہے۔
پاکستانی میڈیا کو سب سے بڑا چیلنج اس کا مالکانہ ڈھانچہ ہے۔ بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں ہیں جو اپنی تجارت اور سیاست کے لیے میڈیا کو استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی طاقتور کاروباری شخصیت ٹیکس چوری یا ناجائز منافع خوری میں ملوث ہے تو اس کا میڈیا ادارہ ایسی خبریں نشر ہی نہیں ہونے دیتا جو عوام کو حقائق سے آگاہ کر سکیں۔ اس طرح میڈیا معاشرتی انصاف کے بجائے طاقتور طبقات کی ڈھال بن جاتا ہے۔
اشتہارات پر انحصار نے صحافت کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ اشتہارات دینے والے ادارے یا حکومتیں میڈیا کے لیے ”مقدس گاہک” کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جو ادارہ زیادہ اشتہار دے، اس کے خلاف کوئی منفی خبر شائع یا نشر نہیں ہوتی۔ اسی طرح جو اشتہار بند کرے، اس کے خلاف زبان سخت ہو جاتی ہے یا اس کے وجود کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یوں صحافت کی غیر جانبداری ایک تجارتی معاہدے کی قید میں آ جاتی ہے۔
چھوٹے شہروں اور قصبوں میں نمائندوں کی طرف سے ”سیکورٹی فیس” یا ”اخباری اخراجات” کے نام پر رقوم وصول کرنا بھی ایک افسوسناک رویہ ہے۔ یہ بلیک میلنگ کا ایسا طریقہ ہے جس نے صحافت کے وقار کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ عام لوگ صحافی کو ”سچ کا علمبردار” سمجھنے کے بجائے اسے کسی مصلحت یا ذاتی مفاد کے ساتھ جوڑنے لگے ہیں۔
یہی صورتحال سرکاری اشتہارات کے معاملے میں بھی ہے۔ کسی بھی حکومت کے لیے میڈیا کی تعریف اور حمایت خریدنا مشکل نہیں۔ زیادہ اشتہار دو، خبر تمہارے حق میں چھپے گی؛ اشتہار بند کرو، تو تمہیں تنقید اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یوں عوام کے سامنے جو تصویر آتی ہے وہ غیر جانبدار خبر نہیں بلکہ ”سرکاری پروپیگنڈا” بن جاتی ہے۔ یہ رویہ جمہوری اقدار کے بھی خلاف ہے اور قومی بیانیے کی یکجہتی کے لیے بھی نقصان دہ۔
پیشہ ورانہ کمزوریاں بھی میڈیا کو کمزور کر رہی ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر رپورٹرز اور اینکرز صحافتی تربیت، زبان و بیان کی مہارت اور تحقیق کے بنیادی اوزاروں سے محروم ہیں۔ جب خبر ناقص زبان میں پیش ہو، جب تجزیہ سنجیدگی کے بجائے جذبات یا ذاتی مفادات کے گرد گھومے، تو عوام کے ذہنوں میں کنفیوژن بڑھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میڈیا معاشرتی ہم آہنگی کو بڑھانے کے بجائے اکثر تقسیم اور نفرت کو ہوا دیتا ہے۔
ریٹنگ کی دوڑ اور سوشل میڈیا کا دباؤ صورتحال کو مزید خراب کر رہا ہے۔ آج ناظرین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے جھوٹی خبریں، بغیر تحقیق کے دعوے اور سنسنی خیز مباحثے میڈیا کے معمول میں شامل ہیں۔ ایک خبر میں اگر ”شور” زیادہ ہو تو وہ کامیاب سمجھی جاتی ہے، چاہے اس میں سچائی کم ہی کیوں نہ ہو۔ اس طرح صحافت کا اصل مقصد پس منظر میں چلا گیا ہے اور قومی بیانیہ مزید انتشار کا شکار ہو رہا ہے۔
ان تمام چیلنجز کے باوجود امکانات بھی موجود ہیں۔ اگر میڈیا اپنی سمت درست کرے تو یہ ملک میں قومی یکجہتی اور ترقی کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکتا ہے۔ عوام اب بھی میڈیا پر اعتماد کرتے ہیں اور اسی کے ذریعے اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔ تحقیق پر مبنی صحافت، مثبت موضوعات کی ترویج اور غیر جانبداری اگر میڈیا کا شعار بن جائے تو یہ قومی بیانیے کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا نے اس حوالے سے نئے دروازے کھولے ہیں۔ نوجوان نسل زیادہ تر خبریں آن لائن ذرائع سے لیتی ہے۔ اگر انہیں امید، محنت اور عملیت پسندی کا پیغام دیا جائے تو یہ نسل مایوسی اور انتشار کے بجائے مثبت سوچ کی طرف مائل ہوگی۔ یہی وہ موقع ہے جو میڈیا کو اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستانی میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے۔ اگر یہ ذاتی مفادات، سنسنی اور سرمایہ دارانہ دباؤ میں رہا تو قومی بیانیہ مزید بکھرتا جائے گا اور معاشرہ تقسیم در تقسیم کا شکار ہوگا۔ لیکن اگر یہ اپنی طاقت کو مثبت سمت میں استعمال کرے تو یہ معاشرتی استحکام، قومی یکجہتی اور ترقی کا ضامن بن سکتا ہے۔ پاکستان کو آج ایک ایسے میڈیا کی ضرورت ہے جو عوام کو تقسیم کرنے کے بجائے جوڑنے والا بیانیہ پیش کرے، جو سچائی کو ترجیح دے، اور جس کی پہچان خالص صحافت ہو نہ کہ تجارت۔
یوسف صدیقی