پاکستان میں ڈرائیونگ لائسنس کا نظام

پاکستان میں ڈرائیونگ لائسنس کا نظام ایک ایسا اہم شعبہ ہے جس کا براہِ راست تعلق عوام کی جان، سڑکوں کی حفاظت اور ٹریفک نظم و ضبط سے ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس نظام کو وہ سنجیدگی نہیں دی جاتی جس کی یہ حقیقتاً ضرورت رکھتا ہے۔ روزانہ سڑکوں پر ہونے والے حادثات، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں، کم عمر ڈرائیورز اور بغیر تربیت گاڑی چلانے والے افراد اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ڈرائیونگ لائسنس صرف ایک کاغذ نہیں بلکہ ذمہ داری، تربیت اور شعور کی علامت ہونا چاہیے۔
ترقی یافتہ ممالک میں ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنا ایک مکمل تربیتی اور امتحانی عمل سے گزرنے کے بعد ممکن ہوتا ہے۔ وہاں امیدوار کو پہلے ٹریفک قوانین، سڑک کے اشاروں، گاڑی کی بنیادی سمجھ اور ہنگامی صورتحال میں ردِعمل کے بارے میں مکمل آگاہی دی جاتی ہے۔ اس کے بعد تحریری اور عملی امتحان لیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی بظاہر یہی نظام موجود ہے، مگر عملی طور پر کئی جگہوں پر یہ نظام کمزور دکھائی دیتا ہے۔
ہمارے ہاں اکثر لوگ ڈرائیونگ سیکھنے کے باقاعدہ مراحل سے گزرنے کے بجائے صرف کسی جاننے والے سے گاڑی چلانا سیکھ لیتے ہیں اور پھر لائسنس بنوانے کے لیے سفارش یا ایجنٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ یہی وہ خرابی ہے جو بعد میں سڑکوں پر حادثات کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ جب کسی شخص کو نہ لین بدلنے کا شعور ہو، نہ رفتار پر قابو ہو، نہ اشاروں کی سمجھ ہو، تو وہ صرف اپنی نہیں بلکہ دوسروں کی زندگی بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔
پاکستان میں ڈرائیونگ لائسنس کے نظام کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ اب کئی شہروں میں اس عمل کو جدید اور ڈیجیٹل بنایا جا رہا ہے۔ لرنر پرمٹ، ٹیسٹ ٹریک، کمپیوٹرائزڈ امتحان اور آن لائن تصدیق جیسے اقدامات امید کی ایک کرن ہیں۔ خاص طور پر بڑے شہروں میں ٹریفک پولیس نے اس شعبے میں کافی بہتری لانے کی کوشش کی ہے۔ مگر اصل مسئلہ صرف سسٹم کا نہیں، عوامی رویوں کا بھی ہے۔ جب تک لوگ خود قانون کی اہمیت کو نہیں سمجھیں گے، صرف ادارے تبدیلی نہیں لا سکتے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں بہت سے حادثات کی بنیادی وجہ غیر تربیت یافتہ ڈرائیورز ہیں۔ موٹر سائیکل سوار نوجوان، کم عمر رکشہ ڈرائیور، اور تیز رفتار گاڑیاں چلانے والے افراد اکثر بغیر مکمل لائسنس کے سڑکوں پر نظر آتے ہیں۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ لائسنس کے اجرا کے عمل کو مزید سخت، شفاف اور میرٹ پر مبنی بنایا جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ اسکول اور کالج کی سطح پر بھی ٹریفک قوانین اور روڈ سیفٹی کے بنیادی اسباق شامل کیے جانے چاہئیں۔ اگر نوجوانی ہی سے شہریوں میں سڑک استعمال کرنے کا شعور پیدا کر دیا جائے تو مستقبل میں حادثات کی شرح میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ ڈرائیونگ صرف اسٹیئرنگ پکڑنے کا نام نہیں بلکہ صبر، برداشت، قانون کی پابندی اور دوسروں کے حق کا احترام بھی ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک مضبوط ڈرائیونگ لائسنس سسٹم صرف کاغذی کارروائی نہیں بلکہ ایک محفوظ معاشرے کی بنیاد ہے۔ اگر ہر ڈرائیور باقاعدہ تربیت، امتحان اور قانون کی پاسداری کے بعد سڑک پر آئے تو نہ صرف قیمتی جانیں بچ سکتی ہیں بلکہ ٹریفک کا پورا نظام بہتر ہو سکتا ہے۔
حکومت، ٹریفک پولیس اور عوام تینوں کو مل کر اس نظام کو مضبوط بنانا ہوگا۔ ایجنٹ کلچر کے خاتمے، سخت عملی ٹیسٹ، جدید ٹریکس، اور مسلسل آگاہی مہمات کے ذریعے پاکستان میں ڈرائیونگ لائسنس کے نظام کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ کیونکہ محفوظ سڑکیں صرف اچھے ڈرائیورز سے بنتی ہیں، اور اچھے ڈرائیورز ایک مضبوط لائسنسنگ نظام کی پیداوار ہوتے ہیں۔

نعمان علی بھٹی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی