میں بار بار اک چیز کے پیچھے نہی بھاگتی مگر ہاں اک مدت تک کوشش ضرور کرتی ھوں۔اگر مل جاۓ تو ٹھیک اگر نہی تو وہی چھوڑ کر آگے بڑھ جاتی ھوں۔کیونکہ مجھے معلوم ھے۔حاصل لا حاصل کی جنگ میں صرف ذہن کو مضبوط رکھنا ھوتا ھے کیونکہ جب حاصل ھو جاتا تب ہم سمجھتے ہیں ہم جیت چکے ہیں مگر جب لا حاصل ھوتا تب ہم یا تو شکست تسلیم نہی کرتے یا ہم ضد میں آکر غلط انتخاب کر لیتے ہیں۔انسان کی فطرت ھے کہ وہ صرف حاصل تک محدود رہتا ۔اسلیے خود کو اتنا مضبوط رکھنا چاہیے کہ جب لا حاصل کی بات ھو تب ہم کمزور نہ بن سکے بلکہ اپنے اپ کو اتنا مضبوط کر سکیں کہ أپ کو فرق نہ پڑیں۔
چیزیں اہم نہی ھوتیں بلکہ انسان کی سوچ۔محنت۔نیت۔یقین ۔ایمان اہم ھوتا۔اس کائنات میں ہر شے کا نعم البدل ھے ۔اسلیے ھونے نہ ھونے کا غم کرنے سے بہتر ھے جو پاس ھے اس میں شکر ادا کریں اور جو نہی ھے اسکو اللہ کی رضا سمجھ کر صبر کریں۔ان سب کی بہترین غذا ذکر ھے جو انسان کو قربت الہی کے ساتھ ساتھ انسان کو مضبوط بناتا ھے۔
بس دعا کیا کریں ۔اللہ جو دے خیر کا دے ۔اور جو نہی بہتر وہ بیشک نہ دے اسکی جگہ اتنی رضا عطا کر دے۔آمین۔
صنم فاروق حسین