پاس اپنے اک جان ہے سائیں

پاس اپنے اک جان ہے سائیں
باقی یہ دیوان ہے سائیں

جس کا کوئی مول نہ گاہک
کیسی یہ دوکان ہے سائیں

آنسو اور پلک تک آئے
آنسو اگنی بان ہے سائیں

جوگی سے اور جگ کی باتیں
جوگی کا اپمان ہے سائیں

میں جھوٹا تو دنیا جھوٹی
میرا یہ ایمان ہے سائیں

جیسا ہوں جس حال میں ہوں میں
اللہ کا احسان ہے سائیں

رسا چغتائی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی