نیند میں کیسی نیند بھری تھی

نیند میں کیسی نیند بھری تھی
آنکھ سے دل تک بے خبری تھی

سپنے میں اک شیش محل تھا
باغ کے اندر بارہ دری تھی

نیلا امبر ، کالا بن تھا
پھول گلابی، شاخ ہری تھی

میرا چہرہ ان آنکھوں میں
خوش فہمی یا خوش نظری تھی

جیون کیسا رنگ بھرا تھا
دنیا کتنی بھاگ بھری تھی

خواب میں کون قریب آیا تھا
کس آہٹ سے نیند ڈری تھی

طشت میں تھا اک زہر کا پیالہ
ساتھ ہی اک تلوار دھری تھی

میرے دل میں اس کا غم تھا
اس کے جام میں لال پری تھی

ثمینہ راجہ

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی