نہیں کوئی اپنا زمین و زماں میں

نہیں کوئی اپنا زمین و زماں میں
بہت غم ہیں پِنہاں دلِ خونچکاں میں

عداوت میں تیری جو اِک لفظ بولیں
تو پڑ جائیں چھالے ہماری زباں میں

نہیں ہے،نہیں ہے،نہیں ہے، نہیں ہے
نہیں دوسرا کوئی تُجھ سا جہاں میں

نظر آ رہا ہے جو ویراں کھنڈر اب
بہت رونقیں تھیں کبھی اُس مکاں میں

اسے بھی ضرور آزما لے تُو ہم پر
جو ہے آخری تِیر تیری کماں میں

بہت ہو چُکی صبر کی انتہا اب
کہاں اتنی قُوّت دلِ ناتواں میں

لُٹے ایک اِک کر کے “شہناز” سارے
نہ باقی بچا اب کوئی کارواں میں

شہناز رضوی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل