نام اُ س نے لیے دُعا میں کہیں

نام اُ س نے لیے دُعا میں کہیں

میں بھٹکتا رہا خلا میں کہیں

سانس لیتا ہوں خون جلتا ہے

آگ شامل نہ ہو ہوا میں کہیں

آخرآنا پڑا ز میں پہ مجھے

آشیانہ نہ تھا فضا میں کہیں

سب سے میرا نباہ مشکل تھا

بے وفائی بھی تھی وفا میں کہیں

اُس کی زلفوں کے سائے میں تھا شاذ

جیسے اک دشت ہو گھٹا میں کہیں

شجاع شاذ

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے