نہ سہی گر شبِ وصال نہیں

نہ سہی گر شبِ وصال نہیں
تیرا ہجر و فراق تو ہو گا

بے سبب دشمنی نہیں ہوتی
کچھ سیاق و سباق تو ہو گا

کون ہے جو دِیا جلائے گا
میری تُربت پہ طاق تو ہو گا

ان سے مل کر دوبارہ ملنے کا
آپ کو اشتیاق تو ہو گا

کلیم احسان بٹ

Related posts

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا