نہ رنجشیں، نہ شکایت ہے

نہ رنجشیں، نہ شکایت ہے اور گلہ بھی نہیں
اور اپنے آپ کو کھونے کا حوصلہ بھی نہیں

لکھا ہے میرے مقدر میں ہجرتیں کرنا
خطا یہ میری نہیں جرم آپ کا بھی نہیں

وہ جس نے درد کو اپنے لیے دوا سمجھا
اسی کے واسطے ہوتی کہیں دعا بھی نہیں

یہ وحشتیں تو مری ذات کا حوالہ ہیں
نہیں ہے درد پرانا مگر نیا بھی نہیں

اسی کو پھر سے محبت نے مار ڈالا ہے۔
وہ جس کے پاس کوئی اور سلسلہ بھی نہیں

منزہ سحر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا