لازم ہے وہ ہر بات کو ترتیب سے رکھے

لازم ہے وہ ہر بات کو ترتیب سے رکھے
بگڑے ہوئے حالات کو ترتیب سے رکھے

پہلے مرے جیون کے خدو خال سنوارے
اور پھر مری عادات کو ترتیب سے رکھے

یوں ہی نہ گنوا دے وہ کہیں میری وفائیں
اس قیمتی سوغات کو ترتیب سے رکھے

کھڑکی سے نظر آئے جو پرندوں کا چہکنا
کیسے کوئی جذبات کو ترتیب سے رکھے

مٹی میں نہ مل جائیں کہیں قیمتی موتی
آنکھوں میں وہ برسات کو ترتیب سے رکھے۔

ہے فرض اسی کا وہ سمیٹے مرے ٹکڑے
بکھری سی مری ذات کو ترتیب سے رکھے

منزہ سحر

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے