نہ جانے کیا سے کیا مجھ کو

نہ جانے کیا سے کیا مجھ کو مرا یہ ڈر بنا دے گا
ذرا جو سانس لی میں نے کوئی پتھر بنا دے گا

میں اپنے گھر میں رہ کر بھی پتا سمجھا نہ پاؤں گا
کوئی ٹوٹے ہوئے تارے پہ میرا گھر بنا دے گا

میں نم آنکھوں سے اس کے سامنے جاتا ہوں یہ سن کر
جسے وہ دل میں رکھے گا اسے گوہر بنا دے گا

پھر اس نے اجنبیت سے مری دنیا بدل ڈالی
وہ اکثر مجھ سے کہتا تھا مجھے بہتر بنا دے گا

سفر جیسا بھی ہو رستہ اکیلے طے کرو اس کا
اگر منزل نہ دے گا تو تمہیں رہبر بنا دے گا

مرا اک زخم ہے جو درد کے منصب پہ جب آیا
میں جتنا ہوں مجھے اس سے کہیں باہر بنا دے گا

میں غصہ آج تک یہ سوچ کر پیتا رہا آرش
یہ نسخہ آزمودہ ہے مرے تیور بنا دے گا

سرفراز آرش

Related posts

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا