نہ جانے کیا بات تھی اس شخص میں

نہ جانے کیا بات تھی اس شخص میں
لگتا ہے جیسے کائنات تھی اس شخص میں

پل بھر میں میرے آشیاں کو خاک کر گیا
آخر برق جیسی صفات تھی اس شخص میں

شہزادیاں اسے محبوب کا درجہ دیتی تھی
عاشقوں کے لیےساحلِ نجات تھی اس شخص میں

شب ہجر کی ویرانیوں کی مانند
گزری مدت -حیات تھی اس شخص میں

میں نے اس لئے بھی اس کا سخت لہجہ سہا
آخر غموں کی سوغات تھی اس شخص میں

نگار فاطمہ انصاری

Related posts

زمیں کی بات کرتے ہیں

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

مرد کے حصے کا ہجر