جو لکھنے کو قلم رکھنا

جو لکھنے کو قلم رکھنا
قلم کا بھی بھرم رکھنا

اگر سمجھو ہے راہِ حق
تو پھر اس پر قدم رکھنا

بھلا دو اپنی نیکی کو
گنہ سارے رقم رکھنا

وہ جتنے خود پہ سہہ لو تم
فقط اتنے ستم رکھنا

سدا جو زندگی بخشے
کوئی ایسی مہم رکھنا

نہیں جچتا مواحد کو
کوئی دوجا صنم رکھنا

عجم کے ہو مکیں گرچہ
سدا دل میں حرم رکھنا

ہمیشہ ہاتھ میں خالد
وفا کا تم علم رکھنا

اویس خالد

Related posts

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا