نہ ڈھولکی سے نہ ہی تالیوں سے

نہ ڈھولکی سے نہ ہی تالیوں سے جاتا ہے
اداسیوں کا اثر قہقہوں سے جاتا ہے

جلا رہے ہو مرا دل مگر یہ دھیان رہے
جلے ہوئے کا نشاں مشکلوں سے جاتا ہے

بجا ہے مشورہ لیکن بتاؤ کیسے ہنسوں؟
یہ دل کا درد ہے، جو آنسوؤں سے جاتا ہے

بھرے جہان میں اب دل کہیں نہیں لگتا
ترا خیال کہاں دھڑکنوں سے جاتا ہے۔

ہے انتظار کا عالم جہاں منزہ سحر
ہر ایک پل کو گنا، آہٹوں سے جاتا ہے۔

منزہ سحر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی